بس ایک اپنے ہی قدموں کی چاپ سنتا ہوں
میں کون ہوں کہ بھرے شہر میں بھی تنہا ہوں
Related posts
-
ابراہیم اشک
کس لیے کترا کے جاتا ہے مسافر دم تو لے آج سوکھا پیڑ ہوں کل تیرا... -
سلام بحضور سيدالشہداء امام حسين عليہ السلام ۔۔۔۔ شاہد ذکی
سلام بحضور سيدالشہداء امام حسين عليہ السلام مہتابِ محرم کی قسم کم نہيں ہوتا صدياں ہوئيں... -
جوہرِ عباس ۔۔۔ بارِ غم سے جو طبیعت کو گراں پاتے ہیں
بارِ غم سے جو طبیعت کو گراں پاتے ہیں کاشف الکربؑ کی دہلیز پہ جُھک جاتے...
